کوہلو: محکمہ جنگلات و پولیس کی کارروائی، سینکڑوں بٹیر آزاد

کوہلو بلوچستان کے ضلع کوہلو میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات اور پولیس نے ایک بڑی کامیاب کارروائی کے دوران غیر قانونی طور پر پکڑے گئے سینکڑوں مسافر پرندے بٹیر بازیاب کرا کے قدرتی ماحول میں آزاد کر دیے یہ کارروائی ڈویژنل فارسٹ آفیسر کوہلو جان محمد کاکڑ اور ایس پی کوہلو محمد شریف کی خصوصی ہدایت پر عمل میں لائی گئی تفصیلات کے مطابق محکمہ جنگلات کے عملے اور پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں اچانک چھاپہ مار کر ان افراد کو قابو کیا جو بٹیر کے غیر قانونی شکار اور خرید و فروخت میں ملوث تھے کارروائی کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں بٹیر تحویل میں لے کر ڈپٹی کمشنر آفس منتقل کیے گئے جہاں اسسٹنٹ کمشنر کوہلو عبدالکبیر مزاری کی موجودگی میں ان پرندوں کو فضا میں آزاد کیا گیا اس موقع پر ڈویژنل فارسٹ آفیسر کوہلو جان محمد کاکڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی شکار اور پرندوں کی تجارت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات فطرت کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی بقا ماحول کے توازن کے لیے نہایت ضروری ہے چند روپوں کی خاطر پرندوں کی زندگیوں سے کھیلنے اور انہیں بازاروں میں فروخت کرنا قانونا جرم ہے جس کی ہر سطح پر روک تھام کی جائے گی ڈویژنل فارسٹ آفیسر نے مزید کہا کہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے ساتھ ساتھ پولیس کی معاونت بھی قابل ستائش ہے جنہوں نے بروقت اور بھرپور کارروائی کرتے ہوئے قیمتی پرندوں کو بچایا اس موقع پر پولیس افسران نے بھی واضح کیا کہ پرندوں کی غیر قانونی شکار خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی عوامی حلقوں نے اس کامیاب کارروائی پر محکمہ جنگلات اور پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی شکار اور تجارت میں ملوث افراد کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر کوہلو اور کمانڈنٹ میوند بریگیڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ لیویز اور ایف سی کے تمام چیک پوسٹوں کو ہدایت دی جائے کہ جو افراد بٹیر یا دیگر مسافر پرندے غیر قانونی طریقے سے لے جا رہے ہوں انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے عوام نے یہ بھی زور دیا کہ شہر اور گردونواح میں جال کے ذریعے پرندے پکڑنے کے غیر انسانی عمل کو فی الفور ختم کیا جائے تاکہ قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کو تحفظ فراہم ہو سکے کارروائی کے دوران سینئر فارسٹر عبدالعزیز زرکون محمد دین سمیت دیگر جنگلات حکام اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا تاکہ آنے والی نسلوں کو فطرت کا یہ قیمتی سرمایہ منتقل کیا جا سکے۔

Author

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.