امریکی کانگریس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مئی 2025 میں بھارت کے خلاف ایک محدود جنگ میں فوجی برتری حاصل کی۔ اس دوران چین نے اپنے جدید دفاعی نظام کو عملی طور پر آزمایا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 اور 2025 کے دوران چین نے پاکستان کے ساتھ عسکری تعاون میں اضافہ کیا، جس میں مشترکہ فوجی مشقیں، انسدادِ دہشت گردی ڈرلز اور پاکستان کی کثیرالملکی امن مشقیں شامل تھیں۔
چار روزہ جھڑپ کے دوران پاکستانی افواج نے چینی ہتھیاروں کے ساتھ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چین کے HQ-9 میزائل ڈیفنس سسٹم، PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائلز اور J-10 لڑاکا طیارے پہلی بار عملی جنگ میں استعمال ہوئے، جو چین کے لیے عملی تجربہ بھی ثابت ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے چینی ہتھیاروں کی مدد سے بھارتی فرانسیسی رافیل طیاروں کو مؤثر نشانہ بنایا، جس سے چین کے لیے اسلحہ برآمد کرنے کی صلاحیت مضبوط ہوئی۔ جون 2025 میں چین نے پاکستان کو J-35 جدید لڑاکا طیارے، KJ-500 ایئر کرافٹ اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹمز فراہم کرنے کی منظوری دی۔
اسی ماہ پاکستان نے اپنے 2025-2026 کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا، جس سے دفاعی اخراجات 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، باوجود اس کے کہ مجموعی بجٹ میں کمی ہوئی۔