کراچی منگل کی صبح سے موسلا دھار بارش کی زد میں ہے جس نے شہر بھر میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا کر دی۔ مختلف حادثات میں 5 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے۔
گلستانِ جوہر بلاک 12 میں مکان کی دیوار گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ اورنگی ٹاؤن میں دیوار گرنے کے حادثے نے ایک اور ننھی جان لے لی۔
بارش کے نتیجے میں شہر کے 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہوگئے جس سے بجلی غائب ہوگئی۔ گلشنِ حدید سمیت کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ ٹریفک کا نظام مفلوج ہوچکا ہے جبکہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بارش ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام لازمی محکموں کی چھٹیاں منسوخ کر دیں۔ سندھ حکومت نے صورتحال کے پیش نظر کل اسکولز بند رکھنے کا اعلان بھی کر دیا۔
چیف سیکریٹری سندھ نے ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور محکمہ صحت کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔ پولیس حکام کو نکاسی آب اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ شہر میں سب سے زیادہ بارش سعدی ٹاؤن میں 35.8 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔