ملک بھر میں 48گھنٹوں میں بارشوں اور سیلاب کے باعث حادثات میں 344 افراد جاں بحق
اسلام آباد: ملک بھر میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ مختلف حادثات میں 344 افراد جاں بحق جبکہ 148 زخمی ہوگئے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق شمالی علاقوں میں مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ اتھارٹی نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور سیاحوں کو آئندہ 5 سے 6 دن شمالی علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
پاک فوج اور امدادی ادارے متاثرہ اضلاع میں ریلیف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے راشن اور امدادی سامان پہنچایا جارہا ہے جبکہ متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
بونیر میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی جہاں سیلابی ریلوں میں کئی گاؤں بہہ گئے اور 157 افراد جاں بحق ہوئے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع کے لیے مسلح افواج اور فلاحی اداروں کی جانب سے امدادی سامان روانہ کردیا گیا ہے۔
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے 74 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے 63 جزوی اور 11 مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ حادثات سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔ متاثرہ اضلاع کے لیے 50 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں جن میں بونیر کو 15 کروڑ، باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کو 10، 10 کروڑ جبکہ سوات کو 5 کروڑ روپے دیے گئے۔
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق صوبے کے 11 اضلاع کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اب تک 3 ہزار 817 افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 32 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ امدادی کاموں میں 545 ریسکیو اہلکار، 90 گاڑیاں اور کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔ سب سے زیادہ جانی نقصان بونیر میں ہوا جہاں 159 افراد جاں بحق ہوئے۔ باجوڑ میں 20 ہلاکتیں اور ایک شخص لاپتہ ہے، بٹگرام میں 11 افراد جاں بحق اور 10 لاپتہ ہیں۔
گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ شمس لون کے مطابق خطے کے تقریباً تمام اضلاع میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ حالیہ بارشوں میں 7 افراد جاں بحق، 11 زخمی اور 4 لاپتہ ہوئے جبکہ مجموعی طور پر 318 مکانات مکمل طور پر اور 674 جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافے نے سیلابی صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے۔