سانپ اور نیولہ ایک دوسرے کے جانی دشمن کیوں؟حیران کن معلومات
صدیوں سے سانپ اور نیولے کے درمیان جان لیوا دشمنی چلی آرہی ہے، جسکا ذکر اکثر لوگوں کو بھی کرتے سنا ہے،کہانیوں سے لیکر آڈیو ڈاکومنٹری میں یہ اب بھی اتنا ہی دلکش ہے جتنا کہ ماضی میں تھا، جہاں کہیں سانپ اور نیولے کی لڑائی ہو اس میں کسی ایک کی موت واقع ہوتی ہے۔لیکن، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ دونوں جانور اتنے سخت دشمن کیوں ہیں؟
اسکا جواب زندگی بقا کے بنیادی تصور میں پوشیدہ ہے، یہ دونوں اپنی ارتقائی بقا کی وجہ سے ایک دوسرے کے اس دشمن ہیں۔دونوں انواع قدرتی شکاری ہیں ،دونوں ایک دوسرے کو اپنے وجود کیلئے ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں، جب سانپ نیولے کے سامنے آتا ہے تو اسکی فطری جبلت یہ ہوتی ہے کہ اس پر حملہ کر کے اسے مار ڈالے یا اسکے زہر کا استعمال کرکے اسے ناکارہ کر دے۔
اسکے برعکس نیولہ اپنی حفاظت کیلیے سانپ پر حملہ کرتا ہے۔نیولے کے بچے اگر قریب ہوں تو یہ لڑائی اور بھی خطرناک ہوجاتی ہے کیون کہ سانپ کیلیے اسکے بچے آسان ہدف ہوتا ہے، سانپ کو قدرت نے زہر سے لیس کیا ہے جو کسی بھی جاندار کو منٹوں میں مار سکتا ہے، یہ اپنے شکار کے گرد اپنی گرفت مضبوط کر لیتا ہے اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔دوسری طرف نیولے کے کئی حیاتیاتی فوائد ہیں جو اسے سانپ کے مقابلے میں برتری دیتے ہیں، نیولے میں تیز اور چستی سانپ سے زیادہ ہوتی ہے،
اس لئے سانپ کے ڈنگ مارنے پر وہ فوراً ایک طرف ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ سانپ کے زہر کیخلاف مزاحم ہے، نیولہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ سانپ پھن پھیلائے اور وہ اسکے منہ پر حملہ کرے۔مزید یہ کہ نیولے میں پروٹین نما ریسیپٹر ہوتا ہے جو اعصابی افعال میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب سانپ کسی کو کاٹتا ہے، تو اسکا زہر متاثرہ کے اعصابی نظام میں موجود اس حصے کو کام کرنے سے روکتا ہے جس سے جس سے فالج یا موت واقع ہو جاتی ہے۔ تاہم نیولے میں اس رسیپٹر کی ایک شکل ہوتی ہے جو سانپ کے زہر میں موجود زہریلے مادوں کیخلاف قوت مدافعت کا کام کرتی ہے۔