ٹیکس نظام میں اصلاحات عام آدمی کی سہولت کے لیے ہیں، شہباز شریف
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی ڈیجیٹل اصلاحات، مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکس اسیسمنٹ نظام، اور ڈیجیٹل انوائسنگ کے نفاذ سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ، وزیر مملکت برائے خزانہ، وزیراعظم کے مشیران، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عوامی سہولت کے پیش نظر ٹیکس گوشواروں کو اردو زبان میں جاری کیا جائے اور ان کے بھرنے کے عمل کو انتہائی آسان بنایا جائے۔ اس ضمن میں ایک ہیلپ لائن کے قیام کی بھی منظوری دی گئی تاکہ شہریوں کو فوری رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس نظام کی اصلاحات سے تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ مستفید ہوگا۔ انہوں نے ایف بی آر کی تمام اصلاحات کی شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو بھی لازم قرار دیا۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ نئے سادہ اور ڈیجیٹل ٹیکس گوشوارے 15 جولائی سے تنخواہ دار افراد کے لیے اور 30 جولائی سے دیگر شعبہ جات کے لیے دستیاب ہوں گے، جبکہ اردو زبان میں گوشوارے بھی 30 جولائی تک جاری کیے جائیں گے۔
ڈیجیٹل انوائسنگ سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ نظام چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے مفت دستیاب ہوگا اور اس کے تحت خرید و فروخت کی تمام رسیدیں ایف بی آر کے آن لائن نظام میں خودکار طور پر ریکارڈ ہوں گی۔ ابتدائی مرحلے میں 20 ہزار کاروباروں کو اس نظام سے منسلک کیا جائے گا۔ صرف ایک ماہ کے دوران 11.6 ارب روپے کی آٹھ ہزار سے زائد انوائسز جاری کی گئی ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی اسیسمنٹ سسٹم کے تحت پیشگی گڈز ڈیکلریشن کی شرح 3 فیصد سے بڑھ کر 95 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ٹیکس ادائیگی اور کسٹمز کلیئرنس کو مزید موثر بنائے گا۔
وزیراعظم نے کارگو ٹریکنگ اور ای-بلٹی نظام کی پیش رفت کو بھی سراہا اور ہدایت کی کہ نظام کے اطلاق میں عالمی معیار کو یقینی بنانے کے لیے ترکیہ سے جاری معاونت کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لایا جائے۔
وزیراعظم نے ایف بی آر کی ٹیم، وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اصلاحات معیشت کے استحکام اور ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔