بٹ کوائن پہلی بار 1,20,000 امریکی ڈالر کی حد عبور کر گیا
بٹ کوائن نے پیر کے روز پہلی بار 1,20,000 امریکی ڈالر کی سطح عبور کر کے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا، کیونکہ سرمایہ کار اس ہفتے ڈیجیٹل اثاثہ جات کی صنعت سے متعلق پالیسی جیت کی امید لگا بیٹھے ہیں۔
ایشیا کی تجارتی نشست میں بٹ کوائن کی قیمت بلند ہو کر $121,207.55 تک پہنچ گئی، تاہم بعد ازاں قدرے کمی کے بعد یہ 1.6 فیصد اضافے کے ساتھ $121,015.42 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
آج سے امریکی ایوانِ نمائندگان میں ان بلز پر بحث شروع ہو رہی ہے، جن کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثوں کی صنعت کے لیے ایک طویل عرصے سے درکار ملکی ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرایا جائے گا۔
یہ مطالبات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک بھی پہنچ چکے ہیں، جنہوں نے خود کو “کرپٹو صدر” قرار دیا ہے اور پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ کرپٹو صنعت کے حق میں قواعد و ضوابط کو ازسرنو ترتیب دیں۔
آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے کہا: “یہ اس وقت کئی مثبت محرکات کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ مضبوط ادارہ جاتی طلب، مزید اضافے کی توقعات، اور ٹرمپ کی حمایت اس رجحان کے پیچھے بڑے عوامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا، “گزشتہ چھ سات دنوں کے دوران بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کہاں رکے گا، بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ یہ با آسانی $125,000 کی سطح کو بھی چھو سکتا ہے۔”
بٹ کوائن کی قیمت میں رواں سال اب تک 29 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، اور اس کے ساتھ دیگر کرپٹو کرنسیز میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے، حالانکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے تجارتی محصولات کا ماحول ابہام کا شکار ہے۔
ایتھریم (Ethereum)، جو کہ دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ہے، نے پانچ ماہ کی بلند ترین سطح $3,050.90 کو چھوا، جبکہ XRP اور Solana میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
CoinMarketCap کے مطابق کرپٹو مارکیٹ کی کل مالیت بڑھ کر $3.78 ٹریلین ہو گئی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں واشنگٹن نے 14 جولائی کے ہفتے کو “کرپٹو ویک” قرار دیا تھا، جس میں کانگریس کے ارکان Genius Act، Clarity Act، اور Anti-CBDC Surveillance State Act جیسے اہم بلز پر ووٹ ڈالیں گے۔
ان میں سے سب سے اہم Genius Act ہے، جو اسٹیبل کوائنز (Stablecoins) کے لیے وفاقی قوانین وضع کرے گا۔
ادھر، ہانگ کانگ میں کرپٹو سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
China AMC، Harvest، اور Bosera کی جانب سے لانچ کیے گئے بٹ کوائن اسپات ETFs نے نئی بلندیاں حاصل کیں، جبکہ انہی اداروں کے تحت چلنے والے ایتھریم ETFs میں بھی تقریباً 2 فیصد کا اضافہ ہوا۔