پاکستان نے صحت، تعلیم، زراعت، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سب سے زیادہ حوالہ دیے جانے والے سائنسدانوں کی فہرست میں درجنوں محققین کا نام شامل کروایا ہے۔
امریکی ادارہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی سال 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی نمایاں جامعات — آغا خان یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، کومسٹس یونیورسٹی اسلام آباد، قائداعظم یونیورسٹی، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان** اور **اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور — کے متعدد اسکالرز اس عالمی فہرست کا حصہ بنے ہیں۔
اس میں پاکستان کے موجودہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ سابق طلبہ بھی شامل ہیں جن کی تحقیق ترقی پذیر دنیا میں صحت، تعلیم، زراعت اور دیگر اہم شعبوں کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
ٹاپ 2 فیصد میں شمولیت کا معیار
اس فہرست میں وہ سائنسدان شامل کیے جاتے ہیں جن کی تحقیقی کارکردگی یا تو **مجموعی پیشہ ورانہ اثر (Career-Long Impact) یا حالیہ سال کے اثر (Single Recent Year Impact) کی بنیاد پر نمایاں رہی ہو۔
نمایاں پاکستانی سائنسدان
پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار اے بھٹہ (آغا خان یونیورسٹی و یونیورسٹی آف ٹورنٹو) عالمی صحت اور زچہ و بچہ کی صحت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تحقیق نے جنوبی ایشیا میں غذائیت کی کمی اور بچوں کی اموات میں کمی لانے میں مدد دی ہے، جبکہ ان کا کام WHO اور **UNICEF** جیسے اداروں کی پالیسیوں میں بھی شامل ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سلیم ایس ویرانی (آغا خان یونیورسٹی) امراضِ قلب کے ماہر ہیں۔ وہ دل کی بیماریوں کی روک تھام، کولیسٹرول کنٹرول اور لپڈ مینجمنٹ پر تحقیق کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ جدید تحقیقی سہولیات اور عالمی اداروں کے ساتھ اشتراک کو ترجیح دی گئی ہے۔
**پروفیسر ڈاکٹر رومینہ اقبال** نے جنوبی ایشیا میں خوراک، طرزِ زندگی اور جسمانی سرگرمی کے اثرات پر تحقیق کی ہے، جبکہ **ڈاکٹر جے کمار داس** کا کام عالمی ادارہ صحت (WHO) سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں کے لیے ماں اور بچے کی نگہداشت کی پالیسیوں میں معاون ہے۔
پاکستانی جامعات کی کارکردگی
اسٹینفورڈ کی رپورٹ کے مطابق:
NUST کے 43 محققین
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے 43 سائنسدان
پنجاب یونیورسٹی کے 42
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے 41
قائداعظم یونیورسٹی کے 40
آغا خان یونیورسٹی کے 25 سے زائد
بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے 22
عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے 20
سائنسدانوں نے دنیا کے بہترین محققین میں جگہ بنائی ہے۔
پاکستان کی تحقیقی ترقی
یہ کامیابی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستان کی جامعات میں ہونے والی تحقیق عالمی معیار تک پہنچ چکی ہے۔ صحت، زراعت، انجینئرنگ اور سوشل سائنسز کے شعبوں میں پاکستانی محققین کی نمایاں شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں علمی اور تحقیقی سرگرمیاں کسی ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں رہیں۔
یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کے علمی وقار میں اضافہ ہے بلکہ ترقی پذیر دنیا کے لیے امید کی کرن بھی ہے کہ پاکستانی سائنسدان عالمی سطح پر مثبت تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں۔