اگست کے مہینے میں نیٹ ورک سروس معطل رہے گی ،شاہد رند
بلوچستان بھر میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس آج ساتویں روز بھی مکمل طور پر بند رہی، جس کے باعث عوام، طلبہ، کاروباری طبقے اور میڈیا کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔تفصیلات کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع جن میں کوئٹہ، تربت، گوادر، خضدار، نوشکی، پنجگور، قلات، مستونگ، لسبیلہ، چاغی، آواران، کیچ، واشک، خاران، سوراب، سبی، دکی، ژوب، شیرانی، موسی خیل، کوہلو، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، بارکھان، زیارت، بولان، جعفرآباد، نصیرآباد اور جھل مگسی شامل ہیں،
میں تمام موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ خدمات مکمل طور پر بند ہیں۔مواصلاتی نظام کی بندش سے نہ صرف عوامی رابطہ منقطع ہو گیا ہے بلکہ ایمرجنسی سروسز، آن لائن تعلیم، صحافتی سرگرمیاں اور کاروباری لین دین بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سیکیورٹی خدشات موجود ہیں تو متبادل حل نکالا جائے، بصورت دیگر سروسز کی بندش سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں
دوسری جانب حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ ڈیٹا انٹرنیٹ سے دہشتگرد تنظیموں کو رابطے میں سہولت فراہم ہوتی ہے۔ترجمان کے مطابق دہشتگردی کے واقعات کے تناظر میں موبائل فون انٹرنیٹ کی بندش کا فیصلہ کیا ہے اورصوبے میں موبائل فون ڈیٹا انٹرنیٹ سروس اگست کے مہینے میں معطل رہے گی