امریکی محکمہ خارجہ نے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ذیلی گروپ مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی مجید بریگیڈ کو بی ایل اے کے پہلے سے نامزد عالمی دہشت گرد گروپ (SDGT) میں شامل کر لیا گیا ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی کو 2019 میں دہشت گرد حملوں کے بعد عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔ 2019 کے بعد سے بی ایل اے نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں مجید بریگیڈ کے دہشت گردانہ اقدامات بھی شامل ہیں۔
2024 میں کراچی ایئرپورٹ اور گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس میں خودکش حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی تھی۔ 2025 میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ کے واقعے میں جہاں 31 افراد جان بحق ہوئے اور 300 سے زائد مسافر یرغمال بنائے گئے، اس کی ذمہ داری بھی بی ایل اے نے لی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم دہشت گردی کے خلاف عزم کا مظہر ہے اور دہشت گرد تنظیموں کی معاونت روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کی بدولت یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کسی بھی بہانے سے جواز نہیں رکھتی اور عالمی برادری کو مل کر اس لعنت کا خاتمہ کرنا چاہیے۔