بجٹ 26-2025: کن شعبوں کو فائدہ ہوگا اور کون متاثر ہوگا؟
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 26-2025 کے لیے 17 ہزار 573 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بجٹ پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے—جہاں تنخواہ دار طبقہ اور ریئل اسٹیٹ سے وابستہ افراد قدرے مطمئن دکھائی دیتے ہیں، وہیں کئی حلقے تنقید بھی کر رہے ہیں۔
کون مستفید ہوگا؟
معاشی ماہرین کے مطابق، بجٹ کا سب سے بڑا ریلیف تنخواہ دار طبقے کو دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں اضافہ، اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے پابندیوں میں نرمی، ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے ان دونوں طبقات کو فائدہ پہنچایا ہے۔
معاشی تجزیہ کار عابد سلہری کا کہنا ہے کہ بجٹ نسبتاً متوازن ہے، حالانکہ اس سے زیادہ سخت بجٹ کی توقع کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق شرح سود میں نمایاں کمی (22 فیصد سے 11 فیصد) کی بدولت حکومت کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف ملا، جس نے عوامی سہولیات کے لیے گنجائش پیدا کی۔
انہوں نے زرعی شعبے کو ملنے والی کچھ مراعات کا بھی ذکر کیا، مثلاً فرٹیلائزر پر سیلز ٹیکس نہ بڑھانا، جو کسان طبقے کے لیے کسی حد تک فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
تاہم، سلہری نے بعض فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا، جیسے کہ سولر پینلز کی درآمد پر 18 فیصد جی ایس ٹی کا نفاذ۔ ان کے بقول اگر حکومت واقعی متبادل توانائی کو فروغ دینا چاہتی ہے تو ایسے ٹیکسز کا نفاذ غیر منطقی ہے۔
اسی طرح، نان فائلرز پر سختی اور کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں پر اضافی ٹیکس بھی تضاد کا شکار ہیں، کیونکہ ملک میں بہت سے علاقوں میں کارڈ کی سہولت ہی دستیاب نہیں۔
ٹیکس کا بوجھ: صرف تنخواہ دار طبقے پر؟
معاشی ماہر راجہ کامران نے بجٹ کو “استحکام کا بجٹ” قرار دیا، جس کا مقصد معیشت کو سنبھالنا ہے، نہ کہ تیز رفتار ترقی۔ ان کے مطابق سب سے بڑا ٹیکس بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈالا گیا ہے، جو اب انکم ٹیکس کی مد میں 600 ارب روپے سے زائد دے رہا ہے، جبکہ بزنس مین، فیکٹری مالکان اور اشرافیہ اب بھی ٹیکس نیٹ سے بچ نکلتے ہیں۔
راجہ کامران نے کہا کہ یہ صورتحال ملک میں ٹیکس نظام کی ناہمواری کو ظاہر کرتی ہے، اور یہ کہ حکومت نے اس بجٹ میں نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔ نان فائلرز اب گاڑیاں یا گھر نہیں خرید سکتے جب تک وہ ٹیکس فائل نہ کریں، اور ان کے لیے بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس بھی کم کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں فائلر بننے پر مجبور کیا جا سکے۔
حکومتی آمدن کیسے بڑھے گی؟
وفاق نے اپنی غیر ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے پیٹرولیم لیوی کو دوگنا کر دیا ہے، اور آن لائن خریداری پر بھی سیلز ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے جی ایس ٹی برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ جائیداد کی خرید و فروخت میں کچھ نرمی لائی گئی ہے تاکہ ریئل اسٹیٹ کو بحال کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی مالی حیثیت کمزور ہو چکی ہے کیونکہ زیادہ تر ٹیکس آمدن صوبوں کو منتقل ہو جاتی ہے، لیکن صوبے اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے ادا نہیں کر رہے۔ پنجاب میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، مگر دیگر صوبے ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں۔