کوئٹہ: میختر کے قریب مسافر کوچ پر حملہ، 12 افراد کو قتل کر دیا گیا
کوئٹہ: ڈیرہ غازی خان روڈ پر میختر کے قریب سر ڈاکی کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے مسافر کوچ کو روک کر 12 مسافروں کو گاڑی سے اتار کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے سڑک پر ناکہ بندی قائم کر رکھی تھی۔ کوچ کے رُکنے پر انہوں نے مخصوص افراد کو شناخت کے بعد علیحدہ کیا اور بعد ازاں اُنہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد حملہ آور جائے واردات سے فرار ہو گئے۔
مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے ہیں، جبکہ لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
تاحال حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔
بلوچستان سانحہ: شناخت کے بعد بسوں سے اتار کر شہید کیے گئے افراد کی میتیں آبائی علاقوں کو روانہ
کوئٹہ: بلوچستان میں پیش آنے والے دلخراش سانحے کے بعد بسوں سے اتار کر شناخت کی بنیاد پر شہید کیے گئے افراد کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔
کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کمانڈنٹ لیویز اسد چانڈیہ کے ہمراہ میتیں وصول کیں۔ شہداء کا تعلق لاہور، گجرات، خانیوال، گوجرانوالہ، لودھراں اور چوک قریشی (ڈیرہ غازی خان) جیسے مختلف شہروں سے تھا۔
🕊️ شہداء کی شناخت:
جابر اور عثمان: دو بھائی، جو دنیا پور، لودھراں کے رہائشی تھے اور والد کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
محمد عرفان ولد غلام اکبر: تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا۔
صابر حسین ولد محمد ریاض: تعلق کامونکی، گوجرانوالہ سے تھا۔
محمد آصف ولد سلطان: تعلق چوک قریشی، ڈیرہ غازی خان سے تھا۔
غلام سعید ولد غلام سرور: تعلق خانیوال سے تھا۔
محمد جنید: تعلق لاہور سے تھا۔
محمد بلال ولد عبد الوحید: تعلق اٹک سے تھا۔
بلاول: تعلق گجرات سے تھا۔
اس سفاک واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ حکومتی و عسکری ادارے اس افسوسناک واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے سرگرم ہیں۔