پاکستان، چین کی مدد سے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں ترقی کا خواہاں

پاکستان، چین کی مدد سے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں ترقی کا خواہاں

بیجنگ: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان چین کی جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً نئی نسل کی بیٹریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان، چینی ٹیکنالوجی جیسے سوڈیم آئن بیٹریوں کو اپنانے میں دلچسپی رکھتا ہے، جو کئی حوالوں سے روایتی لیتھیم بیٹریوں سے بہتر تصور کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے، جو اقتصادی ترقی، علاقائی روابط، اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے۔ اس تعلق کی سب سے بڑی مثال چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) ہے، جو تجارت، توانائی، دفاع اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں میں وسعت اختیار کر چکی ہے۔

احسن اقبال نے واضح کیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں تعاون، دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ پاکستان میں مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری سے چینی کمپنیوں کو پیداواری لاگت میں کمی کا فائدہ ہوگا، جبکہ پاکستان کے ایندھن پر انحصار میں نمایاں کمی ممکن ہو سکے گی۔

واضح رہے کہ حال ہی میں معروف چینی کمپنی BYD نے پاکستان میں دو نئی الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرائی ہیں، جسے اس شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

احسن اقبال ان دنوں چین کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں وہ اعلیٰ چینی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے چین کے نائب وزیر خارجہ سن ویڈونگ سے ملاقات کی، جس میں سی پیک کے دوسرے مرحلے، صنعتی تعاون اور کاروباری روابط پر بات چیت ہوئی۔ اتوار کو وہ ڈیولپمنٹ ریسرچ سینٹر اور انٹرنیشنل نالج آن ڈیولپمنٹ سینٹر کے صدر لو ہاؤ سے بھی ملے، جہاں باہمی اقتصادی تعاون کو قومی ترقی کے لیے کلیدی قرار دیا گیا۔

دوسری جانب، حکومت پاکستان نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے 5 سالہ سبسڈی اسکیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک موٹرسائیکلیں اور 3 ہزار 170 الیکٹرک رکشے و لوڈرز متعارف کرائے جائیں گے۔ اس منصوبے پر 100 ارب روپے لاگت آئے گی اور وزیراعظم شہباز شریف 14 اگست کو اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔

یہ اسکیم نہ صرف ملکی توانائی کے بحران میں کمی کا ذریعہ بنے گی بلکہ ماحول دوست پالیسیوں کے فروغ کی جانب بھی ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔

Author

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.