وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے ترجمان کے بیانات کو گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جھوٹے دعوؤں سے حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے، پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم، سیاسی اور عسکری قیادت قومی سلامتی کے امور پر مکمل ہم آہنگی اور اتحاد کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی پالیسیوں اور افغانستان سے متعلق جامع حکمتِ عملی پر قومی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق افغان طالبان کی غیر نمائندہ حکومت شدید اندرونی اختلافات کا شکار ہے جہاں خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر مسلسل جبر کیا جا رہا ہے، جب کہ اظہارِ رائے، تعلیم اور نمائندگی کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ چار برس گزرنے کے باوجود افغان طالبان عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہے ہیں، اپنی گورننس کی ناکامی اور اندرونی خلفشار چھپانے کے لیے وہ بیانات اور بیانیے کی سیاست کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی افغان پالیسی قومی مفاد، علاقائی امن اور استحکام پر مبنی ہے، اور سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات جاری رہیں گے۔