پی ٹی آئی احتجاج میں عسکری قیادت کو قتل کی دھمکیاں،پاکستان کا برطانوی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ
برطانیہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک سوشل میڈیا سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف قتل اور بم دھماکے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو 23 دسمبر 2025 کو پی ٹی آئی برطانیہ کے ایک آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی، جس میں برطانوی سرزمین پر موجود چند مظاہرین کو پاکستان کے فیلڈ مارشل کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز اور پرتشدد زبان استعمال کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک خاتون کی جانب سے براہِ راست قتل کی دھمکی دی گئی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات کو آزادیٔ اظہار یا سیاسی اختلاف کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ یہ تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کے مترادف ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور برطانوی انسدادِ دہشت گردی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ ویڈیو کو پی ٹی آئی سے وابستہ دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور حامیوں نے بھی پھیلایا، جس سے معاملے کی سنگینی میں مزید اضافہ ہوا۔ برطانوی قوانین کے تحت اس طرح کی دھمکی آمیز تقاریر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2006 کے تحت قابلِ سزا جرم ہیں۔
عالمی قوانین کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 تمام ریاستوں کو دہشت گردی، تشدد پر اکسانے اور اس کی معاونت روکنے کی پابند بناتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ انہی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس معاملے پر برطانوی حکومت کے سامنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو میں ملوث افراد کی شناخت کی جائے، مکمل تحقیقات ہوں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ برطانیہ کے لیے بھی ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر کس حد تک عمل درآمد کرتا ہے۔