پی آئی اے خریدنے والے عارف حبیب کون ہے؟
پاکستان کا عارف حبیب گروپ ملک کے بڑے اور معروف سرمایہ کاری اور کاروباری گروپس میں سے ایک ہے، جو مختلف شعبوں میں فعال ہے۔ گروپ کی سرگرمیاں مالیاتی، صنعتی اور کاروباری شعبوں تک محیط ہیں اور یہ پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
گروپ کے اہم شعبے درج ذیل ہیں:
مالیاتی خدمات اور سرمایہ کاری (Arif Habib Investments)
سٹاک مارکیٹ بروکریج اور سرمایہ کاری
کاروباری اور صنعتی سرمایہ کاری
بیمہ اور مالیاتی پلاننگ
گروپ کے سرکردہ افراد میں خود عارف حبیب شامل ہیں، جو ملک میں بڑے مالیاتی اور کاروباری منصوبوں میں قیادت فراہم کر رہے ہیں۔
عارف حبیب گروپ کی سرمایہ کاری اور کاروباری حکمت عملی نہ صرف مالی منافع پر مرکوز ہے بلکہ پاکستان میں کاروباری ترقی، صنعتی استحکام اور نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔
قومی ایئرلائن کی نجکاری کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد حصص خرید لیے۔
نجکاری کمیشن بورڈ کے اجلاس میں بولی کے آخری مرحلے کے دوران، عارف حبیب کنسورشیم نے ابتدائی بولی 121 ارب روپے سے بڑھا کر 135 ارب روپے تک پہنچائی، جس کے بعد گروپ کو پی آئی اے کی خریداری کا اہل قرار دیا گیا۔
بولی کے پہلے مرحلے میں لکی کنسورشیم نے 101.5 ارب روپے، ایئربلیو گروپ نے 26.5 ارب روپے، اور عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے زیادہ 115 ارب روپے کی بولی لگائی تھی۔
دوسرے مرحلے میں بولی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں لکی کنسورشیم نے اپنی بولی 101.5 ارب سے بڑھا کر 120.25 ارب روپے تک پہنچائی، جبکہ عارف حبیب کنسورشیم نے 121 ارب روپے کی نئی بولی دی۔
آخری مرحلے میں لکی کنسورشیم نے بولی بڑھا کر 134 ارب روپے تک پہنچائی، لیکن ایک ارب روپے کی کمی کی وجہ سے وہ پی آئی اے کی خریداری کے اہل نہیں رہا۔
رپورٹ کے مطابق، بولیاں ریزرو پرائس سے زائد ہونے کی صورت میں کھلی نیلامی کی جاتی ہیں، بصورت دیگر سب سے زیادہ بولی دہندہ کو قیمت میچ کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، حکومت نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کرنے کا پلان بنایا ہے، جبکہ کامیاب بولی دہندہ کو باقی 25 فیصد حصص خریدنے کیلئے 90 دن کی مہلت دی جائے گی۔ حکومت نے گزشتہ سال پی آئی اے کے 654 ارب روپے کے واجبات اپنے ذمے لے لیے تھے۔
نجکاری کے بعد سرمایہ کار کو آئندہ پانچ سال میں کم از کم 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ پی آئی اے کو مالی طور پر مستحکم اور جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ حاصل ہوگا، جبکہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کی مراعات ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ہوں گی۔