ٹرمپ پیوٹن ملاقات: یوکرین امن معاہدے میں پیشرفت
ٹرمپ پیوٹن ملاقات: یوکرین امن معاہدے میں پیشرفت
الاسکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات کے بعد بتایا گیا ہے کہ یوکرین میں امن معاہدے کی جانب پیشرفت ہوئی ہے، تاہم جنگ بندی پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
جمعہ کو جوائنٹ بیس ایلمینڈورف رچرڈسن، اینکریج میں ہونے والی ملاقات صبح ساڑھے 11 بجے شروع ہوئی اور دوپہر کے کھانے اور وفود کے اجلاس تک جاری رہی۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات نہیں لیے۔
صدر ٹرمپ نے بعد میں فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زمین کے تبادلے پر مذاکرات ہوئے ہیں اور بڑی حد تک اتفاق رائے بھی ہوا، تاہم حتمی منظوری یوکرین کو دینی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس پر فی الحال مزید پابندیاں یا سخت اقدامات نہیں لگائے جائیں گے، لیکن ضرورت پڑنے پر ایسا کیا جا سکتا ہے۔
پیوٹن نے کہا کہ معاہدہ خطے میں امن کے لیے اہم ہوگا، تاہم روس کی سلامتی اور یوکرین کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے اگلی ملاقات ماسکو میں کرنے کی تجویز دی، جس پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ممکن ہے، اگرچہ انہیں تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی اس ملاقات میں شامل نہیں تھے، تاہم ٹرمپ نے کہا کہ وہ اتحادیوں اور زیلینسکی سے رابطے میں رہیں گے اور ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
یوکرین کی پارلیمنٹ کے رکن اولیکسی گونچارنکو نے کہا کہ ملاقات کے بعد بھی جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی نہیں آئی۔ سابق امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن کے مطابق ٹرمپ نے زیادہ کچھ حاصل نہیں کیا، جبکہ پیوٹن نے اپنی زیادہ تر شرائط منوائیں۔
دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو سراہا اور ملاقات کے دوران نیلے پس منظر پر ’امن کی جستجو‘ لکھا ہوا تھا۔ یہ ٹرمپ اور پیوٹن کی ساتویں براہِ راست ملاقات تھی۔