نواب بگٹی بڑے آدمی تھے، بدلہ نائی اور دھوبی سے نہیں لیا جانا چاہیے،وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیر اعلی بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو لا حاصل جنگ میں دھکیل دیا ہے بلوچستان کو مسنگ پرسن کے عینک سے دیکھنا چھوڑ دیںلاپتا افراد کے مسئلہ پر مہارنگ سے ڈائیلاگ کے لیے تیار ہیںنواب بگٹی بڑے آدمی تھے لیکن ان کا بدلہ نائی اور دھوبی سے لیا جارہا ہے آئین پاکستان کے تحت ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات کے لیے حکومت کے دروازے کھلے ہیں بلوچستان میںجلسوں اور احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن سیکیورٹی کا انتظام اور مقام کا انتخاب یہ حکومت کا حق ہے بلوچستان کے مسائل کا پس منظر سمجھنے کے لیے تاریخ کا جائزہ لینا ضروری ہے بلوچستان میں قوم پرستوں نے 30 سے 40 سال تک اپنا ایک علیحدہ موقف قائم کیانواب اکبر بگٹی نے 21جون 2002میں پہلا فراری کیمپ ریاست کے خلاف بنایا تھا بلوچستان میں پنجابیوں کے خلاف تشدد کے پیچھے پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں کہی میر سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ بی وائی سی بلوچستان کی نہیں بلکہ بی ایل اے کی آواز ہے، اور اس کے پیچھے مختلف سیاسی اور سماجی وجوہات کارفرما ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی ایسی تحریکیں ابھرتی ہیں تو ان کے پیچھے صرف سیاسی لیڈر یا سیاسی کلاس کی خواہشات نہیں ہوتیں، بلکہ متعدد عوامل شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان کو توڑنے کی کوششیں وائلنس، دھمکیوں اور علیحدگی پسند نظریات کے ذریعے کی جاتی ہیں، اور یہ تینوں عناصر ہمیشہ ایک ساتھ موجود رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی وائی سی کے ساتھ متعدد مواقع پر ڈائیلاگ ہوا ہے اور سینئر منسٹرز بھی ان کے رابطے میں رہے ہیں، تاہم ان کے جلسوں میں پاکستانی پرچم اتارنے اور بی ایل اے کے نیشنل ترانے کے استعمال جیسے اقدامات موجود ہیں بی ایل اے کے نام نہاد نیشنل ترانے اور علیحدگی پسند پرچم استعمال کرنے والے افراد قانون کی حدود میں احتجاج کر سکتے ہیں، لیکن سڑکوں پر اس قسم کی علیحدگی پسند ایڈوکیسی دنیا کے کسی بھی ملک میں قبول نہیں کی جاتی۔بولان میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں حکومت قانون کے مطابق ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کرواتی ہے اور وارثوں کو دینے کی کوشش کرتی ہے، لیکن بی وائی سی ہسپتال پر حملے کرتے ہیں اور لاشیں واپس لینے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں حکومت نے ہسپتال میں حساس اقدامات کیے تاکہ ہلاک شدگان کے حق میں انصاف اور قانون کی عملداری برقرار رہے علیحدگی پسند تحریکوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی مکمل آزادی نہیں دی جا سکتی اور وائلنس، دھمکی یا قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صوبے میں امن و امان قائم رہے اور عوام کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں
انہوں نے کہا ہے کہ سمی دین کے معاملے میں پبلکلی معافی مانگی بی وائی سی کے کارکنان کی سرگرمیاں، خاص طور پر جلسوں میں ہونے والے واقعات، ذاتی یا سیاسی نوعیت سے الگ ہیں اور ان کے پیچھے مختلف وجوہات ہوتی ہیں جنہیں صرف سیاسی فلیر سے نہیں جوڑا جا سکتا۔مسنگ پرسنز کا مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں، اور ہر جگہ انصاف اور قانون کے مطابق اقدامات کیے جاتے ہیںسکیورٹی فورسز اور ہائیڈرولک کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کے ساتھ انصاف ہونا لازمی ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی صوبے یا قوم سے ہو ہر جان کی قدر ہونی چاہیے اور کوئی بھی واقعہ نادیدہ نہیں رہ سکتا۔نیریٹو کے پاپولر یا نان پاپولر ہونے سے اس کی سچائی متاثر نہیں ہوتی اور تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جہاں سچائی اور انصاف کا تعلق صرف پاپولر یا نان پاپولر نیریٹو سے نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے قوم پرست اور سیاسی رہنما ان کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ وائلنس کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور اس پر سیاست یا میڈیا میں مختلف آرا ہو سکتی ہیں،
لیکن ریاست اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔سیاسی کیپیٹل یا نیریٹو کے اثرات کے باوجود قانون، اخلاقیات اور انصاف کے اصولوں پر قائم رہنا ضروری ہے، اور ہر شہری کے حقوق کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ 2013 کے الیکشن میں وہ کامیاب ہوئے لیکن 2018 کے الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان کاموقف ہمیشہ یکساں رہا اور وہ وائلنس کی کسی بھی شکل کی حمایت یا جواز نہیں دیتے۔ وزیر اعلی نے وضاحت کی کہ بعض رہنما اپنے موقف بدل لیتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ اپنے اصولی موقف پر قائم رہے اور وائلنس کی ریشنلائزیشن کی ہر کوشش مسترد کرتے ہیں میںپارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ کر ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور ہمیشہ اپنے موقف کے ساتھ کھڑے رہے۔تشدد کسی بھی نام یا مقصد کے لیے قابل قبول نہیں سوشل اور سیاسی موقف میں اصولی موقف کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور ان کے لیے عوامی اعتماد اور قانون کی پاسداری سب سے اہم ہے۔انہوں کے کہا ہے کہ وائلنس کے مرتکب افراد عموما سکیورٹی آپریشنز کے دوران مارے جاتے یا گرفتار ہوتے ہیں اور انہیں قانونی دائرے میں لایا جانا چاہیے لاپتہ افراد کے معاملے میں مختلف بیانیے جنم لیتے ہیں اور ضروری ہے کہ اصل حقائق کو ریاستی اور شواہد کی بنیاد پر واضح کیا جائے۔کچھ فیملیز الزام لگاتی ہیں کہ ان کے رشتے دار بی ایل اے کے ہاتھوں گئے، تو بعض اوقات لوگ خوف کے باعث سامنے نہیں آتے یہ تمام کہانیاں اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں
کہ جس نے ان افراد کو اٹھایا وہ کون ہے اور کن حالات میں اٹھائے گااس سوال کا جواب ریاست اور متعلقہ اداروں کو واضح کرنا ہوگا۔انٹیلیجنس ایجنسیز کے پاس شہریوں کی شناخت و معلومات کے لیے مخصوص ٹولز ہوتے ہیں، جیسے کال انٹرسیپشن وغیرہ، اور اگر یہ ٹولز دستیاب نہ ہوں تو عوامی سطح پر یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کوئی شخص کسی مسلح گروہ سے وابستہ ہے یا نہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بتایا کہ بلوچستان میں معلومات کے حصول اور شناخت کے طریقہ کار پر عوام کو اعتماد کی فضا درکار ہے بلوچستان میںجلسوں اور احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن سیکیورٹی کا انتظام اور مقام کا انتخاب یہ حکومت کا حق ہے تاکہ معاشی، سفارتی یا سیکیورٹی امور متاثر نہ ہوں۔گوادر میں شہیدشبیر بلوچ کے ساتھ ہوئے واقعے کا ذکر کیا اور کہا کہ ایسے واقعات معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہیں بلوچ شناخت، محرومی اور عسکریت پسندی کے سوالات کا حل صرف سکیورٹی یا پراپیگنڈے سے ممکن نہیں، بلکہ جامع قومی حکمتِ عملی، مضبوط انٹیلیجنس نیٹ ورکس، شفاف تحقیقات اور سماجی و اقتصادی اصلاحات کے ذریعے ہی پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز مقامی لیڈرز، سیاسی جماعتیں، انٹیلیجنس ادارے اور عوام سے تعاون کی اپیل کی تاکہ بلوچستان میں دیرپا استحکام اور ترقی ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کا فرض ہے کہ عوام کے روز مرہ معمولات اور پبلک آرڈر کو برقرار رکھا جائے آئینی طور پر ہر شہری کو احتجاج اور اجتماع کا حق حاصل ہے مگر اس حق کا استعمال اس حد تک قابلِ قبول ہے جب تک وہ دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہ کرے مثلا سڑکیں بند کرنا، ہنگامی خدمات کو روکا جانا وغیرہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عدالتوں کے حالیہ احکامات کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی ہدایات واضح ہیں کہ احتجاجی عمل کے دوران سڑکیں بند نہیں کی جائیں گی، لہذا انتظامیہ کا کام پبلک آرڈر برقرار رکھنا ہے احتجاج کے دوران فورس کے استعمال پر حساسیت رہتی ہے، مگر انتظامیہ کے پاس عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے غیر مہلک اقدامات کے اختیارات موجود ہیں جن میں لاٹھی چارج، واٹر کینن اور آنسو گیس شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بحالیِ نظم کے لیے غلط طریقوں سے طاقت استعمال کرنے سے گریز کیا جائے گا، خاص طور پر خواتین اور بزرگ افراد کے خلاف فورس لاگو کرنے میں انتہائی احتیاط برتی جائے گی۔ انہوں نے یورپ اور امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی پبلک آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے قوانین ہیں، وہاں احتیاط اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر کارروائی کی جاتی ہے بعض خاندان الزام لگاتے ہیں کہ ان کے رشتہ دار بی ایل اے یا کسی مسلح گروہ کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے، مگر عوامی سطح پر شناخت اور ثبوتوں کے بغیر یہ باتیں واضح نہیں ہوسکتیںگوادر شبیر بلوچ کے قتل میں مہارنگ کانام ایف آئی آر میں درج ہے قانونی کارروائی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں ہے،
جہاں ایف آئی آر درج اور شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں پیش کیا جاتا ہے مہارنگ اپنے اپ کوانسانی حقوق کی علمبردار کہنے والی انہیں انفرادی ایجنڈا کی بجائے جامع انسانی حقوق کے نقط نظر سے کرنا چاہیےیہ جو گیارہ پنجابی مزدور مارے گئے واقعات کی مذمت کی اور کیا حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا کیا ان کیلئے کوئی دھرنا دیا ہے بی وائی سی ایک مخصوص ایجنڈا ڈرائیونگ کرتے ہیں اور ان کا ایجنڈا علیحدگی یا آزادی تک محدود ہوتا ہے۔ ایسے افراد کے بارے میں شواہد دکھا سکتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پنجابیوں کے خلاف تشدد کے پیچھے بنیادی وجہ پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہیں بلوچستان میں جو افراد پاکستان کی حمایت کرتے ہیں، ان کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا جاتا ہے نواب اکبر بگٹی نے 21جون 2002میں پہلا فراری کیمپ ریاست کے خلاف بنایا تھانواب بگٹی بڑے آدمی تھے لیکن ان کا بدلہ نائی اور دھوبی سے لیا جارہا ہے
بلوچستان کے نوجوانوں کو لا حاصل جنگ میں دھکیل دیا ہے آئین پاکستان کے تحت ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات کے لیے حکومت کے دروازے کھلے ہیںحکومت آئین پاکستان کے تحت لاپتا افراد کے مسئلہ پر ماہرنگ سے ڈائیلاگ کے لیے تیار ہیںبلوچستان کو مسنگ پرسن کے عینک سے دیکھنا چھوڑ دیں بلوچستان میں قوم پرستوں نے 30 سے 40 سال تک اپنا ایک علیحدہ موقف قائم کیا، جس میں پاکستان کی اور بلوچستان کی تاریخ کو یکطرفہ انداز میں پیش کیا گیابریٹش آف پاکستان سٹیٹ آف قلات، نوروز خان اور اکبر بگٹی کی کلنگ کی سٹوری غلط دی گئی عوام اور میڈیا صحیح معلومات حاصل کریں اور ہر نیریٹو کو انٹلیکچول اور شفاف انداز میں زیر بحث لایا جائے تاکہ پاکستان اور بلوچستان کی حقیقی تاریخ عوام کے سامنے آئے۔اختر مینگل کے بھائی جاوید مینگل کا نام بھی سامنے آنا چاہیے، جن پر ان کے بقول لشکر بلوچستان کو سپورٹ کرنے اور پنجابیوں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف تشدد میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں ان کے خلاف ٹھوس شواہد ہیں تو ان کا ذکر کیا جانا چاہیے تاکہ بیلنس پیدا ہو سکے۔بلوچستان کے مسائل کا پس منظر سمجھنے کے لیے تاریخ کا جائزہ لینا ضروری ہے