سینیٹ کمیٹی کا پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی تنخواہوں پر سخت نوٹس
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی صدارت سینیٹر ناصر محمود نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر جان محمد، سینیٹر خالدہ عطیب اور سینیٹر ہدایت اللہ خان نے شرکت کی۔
اجلاس میں کوئٹہ (21 نومبر 2025) اور لاہور (18 دسمبر 2025) میں ہونے والے سابقہ اجلاسوں کی ہدایات پر عملدرآمد رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے مینٹیننس اسٹاف کو یکم جولائی 2025 سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ ملازمین کو فوری طور پر بقایاجات ادا کیے جائیں اور انہیں اسی تاریخ سے ایڈجسٹ کیا جائے جس تاریخ سے بلوچستان میں دیگر پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ مختلف اداروں میں ایڈجسٹ کیے گئے تقریباً 2,860 ملازمین کو باقاعدگی سے تنخواہیں دی جا رہی ہیں، جن میں سی ڈی اے، اسٹیٹ آفس، وزارت دفاع، وزارت خارجہ، ایف بی آر، نیب اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس شامل ہیں۔ تاہم 173 ملازمین کے لیے بجٹ کی منظوری جبکہ 83 آئی بی ملازمین کی تصدیق کا عمل تاحال جاری ہے۔
اجلاس میں سینٹرل سول ڈویژن پاک پی ڈبلیو ڈی کے 15 درجۂ چہارم کے ملازمین کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جنہیں گزشتہ چھ ماہ سے نہ ایڈجسٹ کیا گیا اور نہ ہی تنخواہیں ادا کی گئیں۔ کمیٹی نے فوری حل اور ادائیگیوں کی ہدایت جاری کی۔
وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے کمیٹی کو ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ، تنخواہوں، پنشن، گریجویٹی اور دیگر واجبات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں کانسٹینشیا اسٹیٹ مری کے حصول، ترقی اور استعمال کے امور پر بھی غور کیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی نے شفافیت، بروقت فیصلوں اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو جلد پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔