سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات پر دفتر خارجہ کا لاعلمی کا اظہار

0 6

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں ہونے والے مبینہ مذاکرات کے حوالے سے دفترِ خارجہ نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس سے آگاہ ہیں، تاہم ایسی کسی بات چیت کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان ترکیہ کے صدر کی جانب سے پیش کی گئی ثالثی کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے اور ترکیہ کے ثالثی وفد کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفد کی آمد میں تاخیر پاکستان کے عدم تعاون کی وجہ سے نہیں ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدیں موجودہ حالات کی وجہ سے بند کی گئی تھیں، جبکہ اب افغان حکام نے بھی اپنی جانب سے سرحد بند کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فی الحال سرحد صرف امدادی سرگرمیوں کے لیے کھولی ہے۔

دوسری جانب، خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں جنگ بندی سے متعلق امن مذاکرات کا تیسرا دور منعقد ہوا، جس کی میزبانی سعودی عرب، ترکیہ اور قطر نے مشترکہ طور پر کی۔ رپورٹ کے مطابق مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوئے، تاہم جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ کرغزستان کے صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے وفود کی سطح پر ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تعلقات اور تجارتی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے تجارتی حجم کو 2027-28 تک 200 ملین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا۔

ترجمان کے مطابق 15 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، بزنس فورم میں 20 سے زائد کرغز کمپنیاں اور 80 سے زائد پاکستانی تاجر شریک ہوئے۔ اسحاق ڈار نے کرغز وزیر خارجہ اور صدر سے ملاقاتیں کیں جبکہ انہوں نے مصر کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد کانکلیو کا افتتاح بھی کیا۔

Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.