بلوچستان میں شدید برفباری، وادیاں سفید چادر میں ڈھک گئیں
نئے سال 2026 سے چند گھنٹے قبل بلوچستان کے شمالی اور مغربی اضلاع میں شدید برفباری اور بارش نے قدرتی حسن کو دوبالا کر دیا۔ زیارت، توبہ اچکزئی، کان مہترزئی، چمن، قلعہ عبداللہ اور قلات کے پہاڑی علاقوں میں برفباری کے باعث پہاڑ اور وادیاں سفید چادر میں ڈھک گئیں، جبکہ کوئٹہ، پشین، مستونگ، نوشکی اور ژوب میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
برفباری اور بارش کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا اور کئی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا یہ سلسلہ 29 دسمبر کی شب سے شروع ہوا جو 31 دسمبر کی رات تک جاری رہنے کا امکان ہے، اس دوران پہاڑی علاقوں میں مزید برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں بارش متوقع ہے۔
زیارت کی مشہور جونیپر وادیاں برف سے ڈھک گئیں، جہاں سیاح بڑی تعداد میں پہنچ گئے اور قدرت کے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ زیارت اور کان مہترزئی کی برفانی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جنہیں نئے سال کے لیے قدرت کا حسین تحفہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب برفباری اور بارش کے باعث بعض مشکلات بھی سامنے آئیں۔ کوئٹہ سے زیارت اور چمن جانے والی سڑکوں پر پھسلن کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جبکہ چند نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ کوئٹہ میں بارش کے سبب متعدد بجلی کے فیڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور دورانِ سفر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق طویل خشک سالی کے بعد ہونے والی یہ بارشیں زراعت، چشموں اور زیرِ زمین پانی کی سطح کے لیے نہایت مفید ثابت ہوں گی۔
شدید سردی کے باوجود برفباری اور بارشوں نے بلوچستان کو جنت نظیر بنا دیا ہے، جہاں نئے سال کا آغاز قدرت کی خوبصورت برفانی چادر کے ساتھ یادگار بن گیا ہے۔