ایران میں احتجاج بے قابو، ملک بھر میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ

0 4

ایران اس وقت شدید داخلی بحران کا شکار ہے جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی بدحالی اور کرنسی کی گراوٹ کے باعث ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے بے قابو ہو چکے ہیں۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت نے ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کر دیا ہے۔

انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے کے مطابق جمعرات کی شام سے ایران میں مکمل قومی سطح پر انٹرنیٹ سروس بند ہے، جو احتجاجی سرگرمیوں کو روکنے کی ایک بڑی کوشش سمجھی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے باوجود مظاہروں کی شدت میں کمی نہیں آئی۔

رپورٹس کے مطابق تہران سمیت بڑے شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، سڑکیں بند کی گئیں اور پولیس و مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مختلف علاقوں میں حکومت اور سیاسی قیادت کے خلاف سخت نعرے لگائے گئے۔

ماہرین کے مطابق مہنگائی اور معاشی دباؤ نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، خاص طور پر مزدور اور نچلا متوسط طبقہ بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو چکا ہے۔ دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے یہ احتجاج اب معاشی مطالبات سے نکل کر سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک کم از کم 45 افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ تہران، تبریز، اصفہان، مشهد اور کرمان سمیت تمام 31 صوبوں میں مظاہرے اور تجارتی ہڑتالیں جاری ہیں۔

Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.