اپرینٹس شپ قانون پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے، شہباز شریف
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے نیووٹیک (NAVTTC) کی حالیہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تکنیکی و فنی تربیتی پروگرامز کے نئے اہداف مقرر کرنے اور اپرینٹس شپ قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔
وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ملک میں پیشہ ورانہ تربیت کے نئے متعارف کردہ ایکوسسٹم سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نیووٹیک کے جاری پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نجی شعبے کے تھرڈ پارٹی ویلڈیٹرز، صنعتی شراکت دار، پیشہ ورانہ فرمز، چیمبرز آف کامرس کے نمائندے، کاروباری ایسوسی ایشنز کے ارکان اور AI و IT ماہرین نے شرکت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نیووٹیک کے تحت تربیتی پروگرامز میں طلباء کی بایومیٹرک حاضری اور ٹرینرز کے معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اور پاکستان کے پہلے اسکل بیسڈ بانڈ کے ذریعے نجی شعبے سے تربیت پر نتائج کی بنیاد پر فنڈنگ لی جا رہی ہے۔
نیووٹیک کے پروگرامز میں IT، زراعت، فِن ٹیک، کان کنی، سیاحت، اسپورٹس، ہاسپیٹیلٹی اور چِپ بلڈنگ سمیت بین الاقوامی سطح پر ڈیمانڈ والے شعبے شامل ہیں۔ ملک بھر کے 148 صنعتی ادارے پروگرامز میں شامل کیے گئے ہیں اور مدرسہ جات میں بھی تربیت کا آغاز کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس 1 لاکھ 46 ہزار افراد نے نیووٹیک کے پروگرامز میں تربیت حاصل کی، 15 ہزار سے زائد افراد کو بین الاقوامی سرٹیفیکیشن دی گئی، جبکہ تکامل کے ذریعے 3 لاکھ سے زائد افراد تربیت یافتہ ہوئے اور 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد سعودی عرب میں روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
مزید 350 سے زائد اداروں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرنے کے لیے لائسنس دیا گیا اور 10 ہزار سے زائد افراد کو پیشہ ورانہ تربیت کے پائلٹ پروجیکٹ کے تحت شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ 2,600 نئے اداروں کی رجسٹریشن بھی کی گئی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ نوجوان پاکستانی افرادی قوت عالمی معیار کے بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز کے ساتھ تربیت حاصل کرے گی اور نیووٹیک کے تمام پارٹنر اداروں میں بایومیٹرک حاضری کے نظام کو لاگو کیا جائے گا۔ جن اداروں کی کارکردگی اطمینان بخش نہ ہو، ان کی رکنیت معطل کی جائے گی، اور نیووٹیک کے نظام کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن اور آن لائن مانیٹرنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
وزیرِ اعظم نے اس موقع پر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور عالمی مسابقت کے لیے تربیت کے مواقع بڑھانے پر زور دیا۔