انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے مثبت بیانیہ ناگزیر ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان

0 5

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا معاشرے میں انتشار، عدم استحکام اور تشدد کو جنم دیتا ہے، جس کا مؤثر تدارک وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص نوجوانوں کو درست سمت دکھانا اور حقائق سے آگاہ کرنا ناگزیر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریزم کے بورڈ آف گورننس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایا، ڈی جی لیویز عبدالغفار مگسی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سینٹر آف ایکسیلینس تحقیق، آگاہی اور انسدادِ تشدد کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا اور انتہاپسندانہ رجحانات کے خاتمے کے ساتھ مثبت بیانیے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے سدباب کے لیے ادارہ جاتی تعاون، مربوط حکمتِ عملی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اقدامات ناگزیر ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مثبت، تعمیری اور حقیقت پر مبنی بیانیے کو فروغ دیا جائے گا تاکہ نوجوان نسل کو گمراہ کن عناصر سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے نوجوانوں کی شمولیت اور شعور کی بیداری ضروری ہے اور صوبائی حکومت اس سلسلے میں جامع اقدامات کر رہی ہے۔

اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، انتہاپسندی کے خلاف جاری اقدامات اور آئندہ حکمتِ عملی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور تمام متعلقہ اداروں کو مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ اقدامات کی ہدایت کی گئی۔

دریں اثنا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پورے بلوچستان میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے، جس سے صوبے میں یکساں قانون کے نفاذ سے متعلق ایک دیرینہ انتظامی ابہام ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ریاستی ذمہ داری مزید واضح ہوئی ہے اور عوام کے تحفظ کا دائرہ مزید مضبوط ہوا ہے۔

Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.