اسلام آباد: لاپتہ بلوچ افراد کے لواحقین کا احتجاج 24 ویں روز میں داخل، حکومت خاموش

0 6

اسلام آباد: لاپتہ بلوچ افراد کے لواحقین کا احتجاج 24 ویں روز میں داخل، حکومت خاموش

اسلام آباد (صوفیہ صدیقی) — نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے لاپتہ بلوچ افراد کے لواحقین کا احتجاجی دھرنا 24 ویں روز میں داخل ہو چکا ہے، مگر تاحال کوئی حکومتی نمائندہ مظاہرین سے مذاکرات کے لیے سامنے نہیں آیا۔ مظاہرین میں خواتین، بچے اور بزرگ شہری شامل ہیں جو شدید گرمی، بارش اور حبس کے باوجود اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کے مطابق ان کے مطالبات بالکل واضح ہیں: بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی قیادت کی رہائی اور لاپتہ افراد کی بازیابی، اور تمام افراد کے لیے منصفانہ عدالتی عمل کو یقینی بنانا۔

مہرانگ لہنو کی بہن نادیہ لہنو نے توارِ پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہم صرف اپنے لاپتہ افراد کی بازیابی اور BYC قیادت کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مہرانگ اور دیگر کو صرف بلوچ عوام کی آواز بلند کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔”

نادیہ نے کہا کہ “گزشتہ 24 دنوں سے ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے — ہمارے پیاروں کی بازیابی اور گرفتار قیادت کی رہائی۔”

واضح رہے کہ 4 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ مظاہرین سے مذاکرات کر کے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔ تاہم عدالتی احکامات کے باوجود ابھی تک کسی سرکاری نمائندے نے مظاہرین سے رابطہ نہیں کیا۔

مظاہرین میں کئی افراد بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے اپنے لاپتہ عزیزوں کی امید لیے اسلام آباد پہنچے ہیں۔

معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری نے کہا کہ حکومت کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا: “ہم اس وقت تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔”

انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف سے مہرانگ بلوچ، سمی دین بلوچ اور دیگر گرفتار BYC رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مذاکرات سے متعلق سوال پر ایمان مزاری نے کہا کہ “ہم کسی بھی ایسے حکومتی نمائندے سے بات چیت کے لیے تیار ہیں جو بااختیار ہو اور فیصلے کر سکتا ہو۔” انہوں نے مزید کہا کہ “تاحال کوئی بھی حکومتی نمائندہ ہم سے بات کرنے نہیں آیا، ہم اب تک ‘ان سنے’ ہیں۔”

Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.