آئی ایم ایف کے دباؤ پر کیش اکانومی محدود کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر کیش اکانومی کو محدود اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تاجر دوست اسکیم کی ناکامی کے بعد ری ٹیل سیکٹر سے ٹیکس وصولی کے لیے سخت اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ ٹیکس نادہندگان کے خلاف کڑی کارروائی کی تیاری بھی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے بڑے تاجروں سے مارچ 2026 تک 517 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے ری ٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے تحت بڑے ری ٹیلرز سے جون 2026 تک 707 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا، جبکہ نان فائلرز پر جرمانے اور قانونی کارروائیاں ہوں گی۔
سیلز ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل رسید اور پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم لازمی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سالانہ 50 کروڑ روپے ٹرن اوور رکھنے والے تاجروں کے لیے جون 2026 تک ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم نافذ کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف نے ٹیکس ریفنڈز کے بقایا جات محدود رکھنے کی شرط بھی عائد کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 38 فیصد بڑے ری ٹیلرز پر پی او ایس سسٹم نصب کیا جا چکا ہے، جبکہ آئندہ دو برسوں میں 40 ہزار بڑے ری ٹیلرز کو اس نظام کے تحت لانے کا ہدف مقرر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ری ٹیلرز کی نگرانی کے لیے بینک اکاؤنٹس اور بجلی و گیس کے بلوں کے ذریعے ٹریکنگ کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جبکہ ٹیکس نہ دینے والے دکانداروں کی بجلی و گیس منقطع کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔