لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم کون ہیں؟

لاہور ہائیکورٹ کی تقریباً 150 سالہ تاریخ میں، چند ہی خواتین کو جج بننے کا موقع ملا۔ تاہم، جسٹس عالیہ نیلم پہلی خاتون ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اب تک، لاہور ہائیکورٹ میں پانچ خواتین ججز مقرر ہو چکی ہیں۔

وکلا تحریک کے بعد، چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار چودھری نے لاہور ہائیکورٹ میں ایک خاتون جج کا تقرر کیا، اور اس طرح جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائیکورٹ کی جج مقرر ہوئیں۔ ان کے بعد جسٹس عالیہ نیلم کو لاہور ہائیکورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔

جسٹس عالیہ نیلم، جو فوجداری قانون میں مہارت رکھتی ہیں، 12 نومبر 1966 کو پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 1995 میں وکالت کی ڈگری حاصل کی اور 1996 میں وکیل بنیں۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے مطابق، انہوں نے آئینی معاملات، وائٹ کالر کرائم، دیوانی، فوجداری، انسداد دہشت گردی کے قوانین، نیب، بینکنگ جرائم، اور خصوصی مرکزی عدالتوں کے قوانین سے متعلق پریکٹس کی ہے۔

جسٹس عالیہ نیلم نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں 2009 سے فروری 2013 تک تقریباً 91 مقدمات، لاہور ہائی کورٹ میں تقریباً 850 مقدمات، اور ٹرائل کورٹس میں تقریباً 1473 مقدمات لڑے۔ وہ 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈجسٹ جج مقرر ہوئیں اور 2015 میں مستقل جج بنیں۔

جسٹس عالیہ نیلم نے کئی اہم مقدمات پر فیصلے کیے، جن میں وزیر اعظم شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کے الزام میں ضمانت اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی نو مئی کے واقعات پر درج مقدمات شامل ہیں۔

سپریم جوڈیشل کمیشن کی منظوری کے بعد، پارلیمانی کمیٹی ان کی تعیناتی کی رسمی منظوری دے گی اور صدر مملکت ان کی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عہدے پر تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کریں گے۔ اگر وہ سپریم کورٹ کی جج مقرر نہ ہوئیں، تو وہ 11 نومبر 2028 کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گی۔

تاریخی پس منظر:

پاکستان میں پہلی بار سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں لاہور ہائیکورٹ میں ایک خواتین ججز کا تقرر کیا گیا۔ ان میں جسٹس فخرالنسا کھوکھر، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی بہو ناصرہ جاوید اقبال، اور سابق وزیر ریحانہ سرور کی بہن طلعت یعقوب شامل تھیں۔

مارچ 1996 کے الجہاد ٹرسٹ کیس کی وجہ سے جسٹس فخرالنسا کھوکھر لاہور ہائیکورٹ میں برقرار رہیں، جبکہ دیگر دو خواتین ججز کو اپنے عہدوں سے الگ ہونا پڑا۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ناصرہ اقبال کو دوبارہ لاہور ہائیکورٹ کی جج مقرر کیا گیا، لیکن وہ جلد ہی سبکدوش ہو گئیں۔ جسٹس فخرالنسا کھوکھر لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون جج تھیں جو سب سے سینئر جج کے عہدے پر فائز رہیں، لیکن انہیں چیف جسٹس نہیں بنایا گیا۔

جسٹس ریٹائرڈ فخرالنسا کھوکھر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئیں اور پھر پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بنیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں