ترکیہ کی تین معروف این جی اوز کاترک پاک ویمن فورم کی صدر شبانہ ایاز کی خدمات کا اعتراف

ترکیہ کی تین معروف این جی اوز کاترک پاک ویمن فورم کی صدر شبانہ ایاز کی خدمات کا اعتراف

ترکیہ کی تین معروف غیر سر کاری تنظیموں (این جی اوز)نے پاکستان کے اندر تعلیم ، صحت ،خاص طورپر خواتین کی ترقی کےلئے پاکستانی حکومت اور غیر سرکاری اداروںکے ساتھ ملکر کام کر نے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں برادری ممالک کے عوام کے مزید قریب لانے کےلئے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں ، اس ضمن میں پاک ترک فورم کی چیئر پرسن شبانہ ایاز وہ شاندار خدمات سر انجام دے رہی ہیں جسے ترکیہ کے عوام بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔یہ بات گزشتہ روز انقرہ میں منعقدہ تقریب میں ترکیہ کی تین معروف غیر سر کاری تنظیموں (این جی اوز )اناطولین یونین ،ترک ورلڈ ایسوسی ایشن آف اکیڈمکس اینڈ بیوروکریٹس اور ورلڈ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے چار رکنی ڈائریکٹرز کے وفد نے ترک پاک ویمن فورم کی صدر شبانہ ایاز کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر سرٹیفکیٹ سے نوازنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔تقریب میں تینوں تنظیموں کے ڈائریکٹرز عصمت تاش، پروفیسر ڈاکٹر عیسیٰ ایلیری، ڈاکٹر مہمت تیکن اورخواتین ونگ کی صدر، نور دلجے بھی موجود تھیں۔تقریب میں ترک پاک ویمن فورم کی صدر شبانہ ایاز کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے تعریفی سڑٹیفکیٹ سے نواز اگیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل عصمت تاش نے کہا کہ ترک پاک ویمن فورم کی صدر شبانہ ایاز نے ہمارے پروگرام ”خاموش بچوں کی چیخ کےلئے آواز بنیں،،میں ہمیں تنہا نہیں چھوڑا اور ہمارے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا۔ انہوںنے کہاکہ شبانہ ایاز پاکستان میں خواتین اور بچوں کےلئے بہت سے پروگراموں کی قیادت کر چکی ہیں اور مزید کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شبانہ ایاز کی جاری تحقیق کہ کس طرح ترک خواتین ثقافت، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خود کو بہتر کر رہی ہیں، کن شعبوں میں انھوں نے کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ان کے تجربات کو پاکستانی خواتین کو کیسے منتقل کرنا ہے ،انتہائی شاندار اور دونوں ممالک کی خواتین کیلئے ایک دوسرے سے سیکھنے کا نادر موقع ہوگا، وہ پاک ترک دوستی اور بھائی چارے کو مضبوط کرنے کےلئے بھی خدمات سر انجام دے رہی ہیں جس کی ترک عوام دل سے قدر کرتے ہیں،شبانہ ایاز ہمارے ملک میں محبت و دوستی کی خوبصورت تصویر ہیں،ہم نے شبانہ ایاز کو ان کی انہی خدمات کے اعتراف میں سرٹیفکیٹ سے نوازاہے۔ عصمت تاش نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان جغرافیائی طور پر الگ ریاستیں ہیں تاہم ہم ایک ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ترکیہ پاکستان دوستی اور بھائی چارہ مضبوط ہو رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم درد میں، غم میں پریشانی و خوشی میں ایک دوسرے کے ہم اہنگ ہیں، ترک عوام چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ترکیہ ہر شعبے میں مکمل ایک دوسرے کی حمایت کریںاس سلسلے میں ترکیہ کے لوگ پاکستانی عوام کی ہر موقع پر حمایت کےلئے تیار ہیں، سائنس وٹیکنالوجی،فن و ثقافت ، معیشت اور انسانی حقوق ہر شعبے میں ترکیہ کی کامیابیاں دنیا بھر میں چھائی ہوئی ہیں

خاص طور پر ہماری یہ کوشش”خاموش بچوں کی خاموش چیخ“دنیا بھر کے بہت سے ممالک میں نشر ہوئی،ترک میڈیا کے علاوہ دنیا بھر کے میڈیا نے اس کوشش کو سراہا،ہم یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اور پاکستانی عوام خاموش بچوں کی خاموش چیخ جیسی مہم کو محسوس کریں گے خاص طور پر غزہ میں شہید ہونے والے ہزاروں بچوں کی آواز بنیں گے،ہمیں ان کی اواز بننا چاہیے غزہ میں تقریباً 40 ہزار شہدا ہیں ہمیں ہر پلیٹ فارم پر ان کے قانونی اور انسانی حقوق بیان کرنا چاہئیں۔ عصمت تاش نے کہا کہ پاکستان کی عوام کو ہم اپنے دوستوں، حکومتی و غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے سلام ، محبت اور خلوص پیش کرتے ہیں، ہم پاکستان میں بھی بہت جلد ان تقریبات کا آغاز کریں گے۔ اس موقع پر نور دلجے نے کہا کہ میں ترک پاک ویمن فورم کی صدر شبانہ ایاز کی حمایت اور ساتھ دینے پر مشکور ہوں جنہوں نے ہماری اواز پاکستان پہنچائی،میں بحیثیت ترک خاتون،شبانہ ایاز اور دیگر پاکستانی خواتین کو اپنی بہنوں کے طور پر دیکھتی ہوں اور ان سے ملاقات کی خواہاں ہوں، انشااللہ ہماری ان سے جلد ملاقات ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں