اعلیٰ عدلیہ کے حالیہ فیصلوں میں قادیانیوں کے لیے نرم گوشہ کا تاثر انتہائی تشویش ناک ہے، اظہر بختیار خلجی

لاہور (پ ر): اعلیٰ عدلیہ کے حالیہ فیصلوں میں قادیانیوں کے لیے نرم گوشہ کا تاثر انتہائی تشویش ناک ہے۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے قائم مقام امیر اظہر بختیار خلجی نے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی قوم مبارک ثانی قادیانی کیس کی ریویوپٹیشن پر سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ فیصلہ کی اسلامی تعلیمات اور آئین و قانون کے مطابق تصحیح کی منتظر تھی کہ ختم نبوت پر ایک اور نقب لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مقدمہ بعنوان سید آصف حسین بنام وفاق پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ میں ایک پرانی عدالتی نظیر PLD 1959 Lahore 566 کی عبارتوں کو نقل کیا گیا جس میں علماء اسلام کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کے حوالے بھی دیئے گئے تھے۔ اس پرانی عدالتی نظیر میں قادیانیوں کو مسلم فرقہ لکھا گیا تھا جسے لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مِن و عَن نقل کر دیا۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ دینی جماعتوں، علماء کرام اور وکلاء سمیت عوام الناس نے اس معاملہ پر فوری طور پر آواز بلند کی اور لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ سے تین متنازع پیراگراف حذف کر دیے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ جب آئین پاکستان کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور جج صاحبان کے اپنے حلف میں بھی یہ بات شامل ہے کہ وہ قادیانیت کو اسلام سے نہیں جوڑیں گے تو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی عدالتِ عالیہ کی جانب سے فیصلہ تحریر کرتے ہوئے اس قدر غیر ذمہ داری سے کام کیوں لیا گیا۔ قائم مقام امیر تنظیم نے کہا کہ بادی النظر میں اعلیٰ عدلیہ کے حالیہ فیصلوں سے ایسا تاثر سامنے آ رہا ہے کہ قادیانیوں کے حوالے سے اسلامی تعلیمات اور آئین و قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ جو مسلمانان پاکستان کے لیے قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ حکومت اور تمام ریاستی اداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ختم نبوت جو کہ دین کا اہم ترین ستون ہے اس کے تحفظ کے لیے ملک بھر کی دینی جماعتیں، علماء کرام اور وکلاء سمیت عوام الناس متحد ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں