حکومتِ پاکستان، امریکہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فی الفور رہائی کا زور دار انداز میں مطالبہ کرے، شجاع الدین شیخ

لاہور (پ ر) حکومتِ پاکستان ، امریکہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فی الفور رہائی کا زوردار انداز میں مطالبہ کرے ۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2003ء میں ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں نام نہاد ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کی آڑ میں مبینہ طور پر پاکستان کی سرزمین سے غائب کر کے ایف بی آئی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اُنہیں بدنامِ زمانہ بگرام جیل میں رکھا گیا جہاں غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پھر ایک مضحکہ خیز اور من گھڑت الزام لگا کر امریکی عدالت کے ذریعہ عدل و انصاف کا خون کرتے ہوئے اُنہیں 86 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل مشرف سے لے کر موجودہ حکمران اتحاد تک کسی نے بھی پاکستان کی اس بیٹی کی امریکی درندوں سے بازیابی کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی ناراضگی کے خوف سے حکومت اور مقتدر طبقات کی زبانیں اس معاملے میں گنگ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے اُن کی بہن کی ملاقات کی جو روداد سامنے آئی ہے اُس سے ہر غیرت مند پاکستانی کا خون کھول اُٹھا ہے کہ کس طرح محبوس ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 21 سال سے طرح طرح کی اذیتیں دی جا رہی ہیں اور اُن پر آج بھی ذہنی و جسمانی تشدد جاری ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان فی الفور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سرگرم اُن کے خاندان اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی وکلاء کو مکمل سرکاری و سفارتی معاونت فراہم کرے۔ ریاستِ پاکستان امریکی حکومت کے سامنے زوردار انداز میں یہ مطالبہ رکھے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان منتقل کرنے کا انتظام کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں