آزاد کشمیر کی صورتحال: وزیر اعظم کی جانب سے 23 ارب کی فوری فراہمی منظور

آزاد کشمیر کی صورتحال: وزیر اعظم کی جانب سے 23 ارب کی فوری فراہمی منظور

وزیرعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حالیہ صورتحال پر خصوصی اجلاس کے بعد مسائل حل کرنے کیلئے 23(تئیس) ارب روپے کی فراہمی کی منظوری دیدی گئی ۔اس اجلاس کا انعقاد آج اسلام آباد میں ہوا۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کشمیر، حکومتی وزرا اور اعلیٰ سیاسی قیادت سمیت وفاقی وزرا اور اتحادی جماعتوں کے زعما نے شرکت ۔دوسری جانب سستی بجلی اور آٹے کے مطالبات کے حق میں پرتشدد احتجاج کے بعد پاکستان زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع سے مظفرآباد کے لیے نکلنے والا لانگ مارچ پیر کو دھیر کوٹ کے مقام پر پہنچ چکا ہے۔قبل ازیں مظفر آباد سے صحافی ندیم شاہ کے مطابق حکومت کی جانب سے گذشتہ شب راولاکوٹ کے مقام پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیے گئے

جس میں چیف سیکریٹری کشمیر کے علاوہ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماو¿ں نے شرکت کی۔مذاکرات میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے جانب سے بجلی کی پیداواری لاگت پر فراہمی، سستے آٹے اور اشرافیہ کی مراعات کے مطالبہ پر اتفاق نہیں کیا جا سکا تھا، ایکشن کمیٹی کے رہنماءعمر کشمیری کی جانب سے مذاکرات کی ناکامی کا ایک ویڈیو بیان جاری کیا گیا جس کے بعد راولاکوٹ پڑاو¿ کرنے والے لانگ مارچ نے دوبارہ دھیر کوٹ کے لیے سفر کا آغاز کر دیا۔لانگ مارچ ایک گھنٹے مسافت کو طے کرتے ہوئے دھیر کوٹ پہنچ چکا ہے جہاں پر رات گئے آرام کرنے کے بعد آج صبح لانگ مارچ مظفرآباد کی جانب سفر کا آغاز کر چکا ہے۔پیر کو سفر کے آغاز سے پہلے ایکشن کمیٹی کے ممبر و رہنما شوکت نواز میر نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ’ہم نے مذاکرات عوام کے مینڈیٹ پر کرنے تھے جو اب نہیں پوسکتے، حکومت ہمیں پیدواری لاگت پر بجلی، رعایتی قیمت پر آٹا اور اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے کا نوٹیفکیشن دے،

ہم مظفرآباد جارہے ہیں، حکومت وہیں ہمیں۔ تین چیزوں کے نوٹفکیشن دے دے مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت کی جانب سے مظفرآباد میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے شہر کی مختلف جگہوں پر حفاظتی پوزیشنز سنبھال لی ہیں تاہم مظفرآباد میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان کسی بھی قسم کا ٹکراو¿ نہیں ہوا۔پاکستان کے زیر اتظام کشمیر میں داخلی راستوں شوڑاں، نالہ اور لوہارگلی کے مقام سے مظاہرین نے سڑک کو پتھر، مٹی اور درخت ڈال کر بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے مظفرآباد آنے کے لیے سفر کرنے والوں کو دشواری کا سامنا ہے۔دوسری جانب شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور سیاسی قیادت خطے کو درپیش مسائل کو مذاکرات سے حل کریں۔ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے آج یعنی پیر کو ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی طلب کر رکھا ہے جس میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز شرکت کرینگے۔ شہباز شریف نے کشمیر کی تمام جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حل کے لیے پرامن لائحہ عمل اختیار کریں۔

اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے۔’وزیر اعظم آزاد کشمیر سے بات کی ہے اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں کو ایکشن کمیٹی کے رہنماو¿ں سے بات کرنے کی ہدایت کی ہے ۔شہباز شریف نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مذاکرات اور پرامن احتجاج جمہوریت کا حسن ہیں لیکن قانون کو ہاتھ میں لینے اور ۔سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کرنا چاہیئے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور ناقدین کی کوششوں کے باوجود یہ معاملہ جلد حل ہوجائیگا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’کس طرح کچھ عناصر ہمیشہ اختلاف رائے کے حالات میں سیاسی پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے جلد بازی کرتے ہیںدوسری جانب آصف زرداری نے گذشتہ روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی کشیدہ صورت حال کے حوالے سے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل بات چیت اور باہمی مشاورت سے حل کریں۔اتوار کو ایوان صدر سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر زرداری سے اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے وفد نے ملاقات کی، جس میں صدر کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں او عوام کو ذمہ داری سے کام لینا چاہیے تاکہ دشمن عناصر حالات کا فائدہ نہ اٹھا سکیںبیان کے مطابق وفد نے صدر کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے حالیہ افسوس ناک واقعات سے آگاہ کیا۔ صدر نے موجودہ صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اور پولیس اہلکار کی موت پر تعزیت کی۔صدر نے کہا کہ کشمیری عوام کے مطالبات کو قانون کے مطابق پورا کیا جانا چاہیے۔ موجودہ صورت حال کا حل نکالنے کیلئے عوام کی شکایات پر وزیر اعظم پاکستان سے بات کرونگا

اپنا تبصرہ لکھیں