اغواء ہونے والی سعودی خاتون کراچی سے بازیاب، نامزد ملزم گرفتار

اغواء ہونے والی سعودی خاتون کراچی سے بازیاب، نامزد ملزم گرفتار

اسلام آباد پولیس نے مبینہ طور پر وفاقی دارالحکومت سے اغوا ہونے والی سعودی خاتون کو کراچی سے بازیاب کروانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس میں نامزد ملزم کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی خاتون کے اسلام آباد کے سیکٹر ایف 8 سے مبینہ اغوا کا مقدمہ وفاقی دارالحکومت میں تعینات سعودی عرب کے سفارتی عملے کے ایک رُکن بدر الحریبی کی مدعیت میں 18 اپریل کو تھانہ مارگلہ میں درج کروایا گیا تھا۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق اس ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تفتیش کی غرض سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں اور منگل کی رات موبائل فونز کی لوکیشنز کی بنیاد پر سعودی خاتون اور ان کے مبینہ اغوا کار پاکستانی شہری کو کراچی سے حراست میں لیا گیا۔

اس معاملے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سعودی سفارتخانے کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاع کی بنیاد پر پہلے تو اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں ناکہ بندی کی گئی تاہم اس ضمن میں کوئی کامیابی نہ ملی۔

انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش کے دوران ملزم اور سعودی خاتون کے زیر استعمال موبائل فونز کی لوکیشنز ٹریس کی گئیں جو ہر چند گھنٹوں بعد تبدیل ہو رہی تھیں۔

تفتیشی ٹیم کے اہلکار نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ دو روز کے دوران موبائل فون پر سعودی خاتون اور مبینہ اغوا کار کی لوکیشن صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ اور پھر کراچی آ رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ایک خصوصی ٹیم کو سندھ بھیجا گیا جہاں ان دونوں افراد کو ٹریس کر لیا گیا۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ایس پی، سی آئی اے رخسار مہدی نے بتایا کہ ان دونوں افراد کو منگل کی شام کو کراچی سے حراست میں لیا گیا ہے اور وہاں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انھیں اسلام آباد پہنچا دیا جائے گی۔

تاہم ملزم کے اہلخانہ اور علاقہ عمائدین نے دعویٰ کیا ہے یہ کیس اغوا کا نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ملزم کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر لوئر دیر سے ہے۔

ضلع لوئر دیر کے پولیس افسر اور قائم مقام ڈی پی او رشید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد سے سی آئی اے کے پولیس افسر دو روز پہلے آئے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ لوئر دیر کے شہری کے ہمراہ ایک سعودی خاتون علاقے میں آئی ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مقامی پولیس نے اُن کے ساتھ تعاون کیا، تاہم بعدازاں اسلام آباد پولیس نے ملزم کے چند رشتہ داروں کو تفتیش کی غرض سے حراست میں لیا جنھیں بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

مقامی افراد کے مطابق سعودی خاتون کی تلاش اور انھیں پولیس کے حوالے کرنے کے لیے مقامی سطح پر جرگے بھی منعقد ہوئے تاکہ یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔

جرگے کے ایک رکن محیب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی سطح پر سیاسی رہنما اور ناظمین نے کوشش کی تھی کہ یہ مسئلہ بہتر انداز میں حل ہو جائے اور اس کے لیے وہ خاندان کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کی کوشش تھی کہ دونوں کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے، تاہم بعدازاں معلوم ہوا کہ وہ یہاں سے کہیں اور چلے گئے ہیں۔

ملزم کے اہلخانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سعودی خاتون کے ساتھ سعودی عرب میں ڈرائیور تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی خاتون اس سے قبل بھی ملزم کے ہمراہ پاکستان آ چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مذکورہ خاتون عید سے پہلے ماہ رمضان میں لوئر دیر آئی تھیں۔

اس کیس کی تفتیش سے منسلک لوئر دیر کی مقامی پولیس کے اہلکار نے بتایا کہ سعودی خاتون جب پہلی مرتبہ لوئر دیر آئی تھیں تو ملزم کے والد نے انھیں سمجھا بجھا کر واپس سعودیہ بھیج دیا تھا۔

اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس کے اعلی حکام اس مقدمے کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق سعودی سفارت خانے کے عملے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں