امریکہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں، شجاع الدین شیخ

امریکہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی معاملات کے حوالے سے حال ہی میں امریکی کانگرس میں منظور کی گئی قرارداد جس میں فروری 2024ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے قابلِ مذمت اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کی ایک مذموم کوشش ہے ۔ پون صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفادات اور مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُنا ہے ۔پھر یہ کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم اور درندگی کی مکمل پشت پناہی کرنے والا امریکہ کس منہ سے دوسرے ممالک کو اصلاح کا مشورہ دیتا ہے ۔ امیر تنظیم نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں منعقد کیے گئے فروری 2024ء کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں۔ انتخابات سے قبل اور بعد کے واقعات نے ریاستی اداروں کی غیر جانبداری اور الیکشن کمیشن کی شفافیت پر بڑے سوال کھڑے کر دیے ۔ سیاسی ظلم و جبر کی قابلِ مذمت و باعثِ ندامت مثالیں قائم کی گئیں۔ فارم 45 اور فارم 47 کا معمہ آج تک حل طلب ہے جس کے باعث ملک اب تک بے یقینی کا شکار ہے اور سیاسی و معاشی عدم استحکام ختم نہیں ہو پا رہا۔ لیکن انتخابی عمل میں اصلاح اور مظلوم کی داد رسی کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری صرف اور صرف پاکستان کے عوام اور اداروں پر عائد ہوتی ہے اور کسی دوسرے ملک کی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتقام کی سیاست سے گریز کیا جائے۔ سیاسی جماعتیں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز تمام ملکی معاملات کو مل بیٹھ کر مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں تاکہ کسی بیرونی طاقت کو پاکستان کے اندونی معاملات میں دخل اندازی کا موقع نہ مل سکے۔ہمیں اب یہ فیصلہ کر نا ہو گا کہ کسی معاملے میں بھی بیرونی قوتوں کو ڈکٹیشن دینے کی ہرگزاجازت نہیں دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں