قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی
سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی 27ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں ترمیم کے حق میں 234 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ جے یو آئی کے چار ارکان نے مخالفت کی۔
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کی شق وار منظوری مکمل ہونے کے بعد اسے ایوان میں پیش کیا جسے بھاری اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا اور جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس رہیں گے، عدلیہ سے متعلق ابہام کو ختم کردیا گیا ہے۔
ترمیم پر ووٹنگ کے دوران مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز اور پیپلز پارٹی کی شگفتہ جمانی نے ووٹ نہیں دیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے منظوری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج ایوان نے قومی اتحاد کو فروغ دیا ہے۔ گالم گلوچ اور نفرت کی سیاست کے بجائے ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کے اعزاز کو آئین میں شامل کرنا قوم کے ہیروز کو عزت دینے کے مترادف ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وفاق کو کمزور کرنے والی کسی بات کی حمایت نہیں کی جائے گی، اور 18ویں ترمیم میں تبدیلی صرف اتفاقِ رائے سے ہی ممکن ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ “کسی کا باپ بھی 18ویں ترمیم کو ختم نہیں کرسکتا۔” انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے چارٹر آف ڈیموکریسی کا نامکمل ایجنڈا مکمل کیا جارہا ہے، آئینی عدالت کے قیام اور آرٹیکل 243 میں ترمیم کی جا رہی ہے۔
بلاول نے یاد دلایا کہ 26ویں ترمیم بھی مشاورت سے منظور ہوئی تھی، جس میں مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی دونوں کا کردار شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی مشاورت اور اتفاق رائے جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے۔